یوں تو عقر قرحا کا استعمال اور عقرقرحا کے فوائد بے شمار ہیں۔ اس کی جڑوں کو اطباء ادویات میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کا استعمال مردوں کے مخصوص امراض، عام سردی  دانت میں درد اور پائوریا (pyorrhea) جیسے امراض میں کیا جاتا ہے۔ یہ شہوت انگیز خصوصیت کی حامل جڑی بوٹی ہے نیز یہ جسمانی طاقت اور کارکردگی کو بھی بڑھاتا ہے۔

عقرقرحا کے مختلف زبانوں میں نام

فارسی میں بیخ طرخون

بنگلہ میں اکورا اکورا

ہندی میں آکر کرہ

انگریزی میں Pellitory Root

نباتاتی نام anacyclus pyrethrum

فیملی asteraceae

ماہیت

اس کے چھوٹے پودے برسات کے شروع میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کے پتے، شاخیں اور پھول بابونہ کی طرح ہوتے ہیں۔ مگراسکے زنٹھل کچھ پیلے ہوتے ہیں۔ تنا اور شاخیں روئیں دار ہوتی ہیں۔ اس کی جڑ میں ایک طرح کی خوشبو ہوتی ہے۔ جڑ دو انچ سے چار انچ لمبی اور آدھا پون انچ موٹی ہوتی ہے۔ یہی جڑ بطور دوا استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ پھول سفید ی مائل زرد ہوتا ہے۔

عقر قرحا توڑنے پر اندر سے سفید نکلتا ہے، کھانے سے زبان اور منہ میں عجیب سی سنسناہٹ ہوتی ہے اور منہ میں رال زیادہ بنتی، اور بہنے لگتی ہے۔ اور کچھ دیر کے بعد منہ ٹھنڈا اور صاف ہو جاتا ہے۔

عقر قرحا کا پودا
عقر قرحا کا پودا

مقام پیدائش

پاکستان، ہندوستان، عرب ممالک اور سپین۔

مزاج

گرم خشک درجہ سوم۔

افعال

مخدر خفیف مفتح سدد، منقی دماغ، منقی بلغم، مقوی باہ، مدر لعاب دہن، مدر حیض ۔

عقر قرحا کے فوائد اور استعمال

  • منقی دماغ اور منقی بلغم ہونے کی وجہ سے امراض باردہ بلغمیہ مثلاً لقوہ، فالج، استرخا، رعشہ، کزاز اور صداع وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
  • مقوی باہ معجونوں اور حبوب میں شامل کیا جاتا ہے لہذا مذکورہ امراض میں تنہا بھی شہد کے ہمراہ استعمال کراتے ہیں۔
  • شہد کے ہمراہ استرخائے زبان لکنت وجتہ الصوت بلغمی میں پیس کر زبان وحلق پر ملتے ہیں اور کم مقدار میں کھلاتے ہیں۔
  • سرد مزاج والوں کیلئے مقوی باہ ہے۔
  • حیض کو جاری کرتا ہے۔
  • مقوی باہ طلاؤں میں مفرداً و مرکباً مستعمل ہے۔
  • باہ کو ہیجان میں لاتا اور عضو کو قوی و مستحکم بناتا ہے۔
  • مخدر ہونے کی وجہ سے امساک پیدا کرتا ہے۔
  • مدر لعاب دہن اور خفیف مخدر بھی ہے۔ لہذا اس کو دانت کے درد استرخائے لہات اور خناق میں بطور سنون وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں یا ماوف دانت پر عاقر قرحا کا ٹکڑا رکھ کر اس کو دبا لیتے ہیں ۔لعاب بہہ کر تھوڑی دیرمیں درد ساکن ہو جاتا ہے۔
  • ہاتھ پاؤں یا کسی دیگر عضو کو گرمی پہنچانے کیلئے اس کو خشک باریک پیس کر یا روغن میں جلا کر مالش کرتے ہیں۔

شہوت کی کمی کیلئے عقر قرحا کا استعمال

ایسے افراد جن میں جنسی خواہش کم یا ختم ہوگئی ہو، اس سفوف کے استعمال سے جسنی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے اور طویل عرصے تک اس کے اثر کو برقرار رکھتا ہے۔ اسے دوسری جڑی بوٹیوں کے مرکب کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

سفوف محرک باہ
عقر قرحا50 گرام
اسگند ناگوری100 گرام
فلفل دراز10 گرام
زعفران10 گرام
لونگ10 گرام
دار چینی10 گرام
جاوتری10 گرام
جائفل2 گرام

ترکیب تیاری اور طریقہ استعمال: سب اجزاء کو باریک پیس کر سفوف تیار کر یں اور محفوظ کر لیں۔ 2 گرام نیم گرم دودھ کے ساتھ صبح و شام استعمال کرائیں۔

نفع خاص

منقی دماغ، منقی بلغم۔

مضر

پھیپھڑوں کیلئے۔

مصلح

کتیرا۔

بدل

فلفل دراز (long pepper)

تاثری عمر

اس کی قوت سات سال تک قائم رہتی ہے۔

خاص بات

عاقرقرحا کا حوالہ پرانی آیوردیدک کتب ششرت اور چرک وغیرہ میں نہیں ہے۔

مقدار خوراک

عقر قرحا پوڈر: دن میں 1 سے 2 گرام

عقر قرحا جڑ کا عرق: 125 ملی لیٹر سے 250 ملی لیٹر دن میں دو بار

عقر قرحا کے نقصانات

  • ضرورت سے زیادہ استعمال بہت زیادہ تھوک پیدا کرتا ہے۔
  • عقر قرحا کا اکیلا استعمال منہ کے السر کا سبب بنتا ہے۔
  • سینے اور معدے میں جلن پیدا کرتا ہے۔
  • تیزابیت پیدا کرتا ہے۔
  • دوران حمل اور دودھ پلانے والی ماؤں کیلئے بھی مضر ہے۔
  • عقر قرحا کا زیادہ سے زیادہ 1 سے 4 ہفتے تک استعمال کرنا محفوظ ہے۔

مشہورمرکب

سنون خاص۔ سنون مجلی دندان، برشعشا وغیرہ۔

مزید جانئے: تخم بالنگو (تخم مالنگا) کے خواص، فوائد اور استعمال