مختلف نام

اردو: چرچٹہ

پنجابی: پھٹکنڈا

بنگالی: اپانگ

ہندی: چرچرا، لٹ چرا

سنسکرت: اپاگارما

فارسی: خارواژ گوند

مرہٹی: آکھرا، پاندھرا، آگھرا

گجراتی : سفید آگھرو

ملیالم: کٹالائی

انگریزی: پرکلی چیف فلاور (prickly chaff flower) اور لاطینی میں ایکی امیتھس ایسپرا (achyranthes aspera) کہتے ہیں۔

شناخت

چرچٹہ ( پھٹکنڈہ ) بوٹی ایک فٹ لمبی ہوتی ہے۔ اور ہندوستان و پاکستان کے ہر علاقے میں بکثرت ملتی ہے۔ اس کے پتے سبز اور نوک دار ہوتے ہیں۔ اس کی لمبی لمبی چھڑوں پر چھوٹی چھوٹی تھیلیاں ہوتی ہیں۔ جن کا رخ زمین کی طرف ہوتا ہے۔ یہ تھیلیاں درحقیقت چرچٹہ کے پھول ہیں۔ ان پھولوں میں بیج ہوتو ہیں۔ جو چاول کے چھوٹے دانے کی طرح نوک دار ہوتے ہیں۔ پھولوں میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، جو کپڑوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ اسے پنجابی میں پٹھکنڈا کہتے ہیں۔ چرچٹہ دو قسم کا ہوتا ہے۔

  • سرخ شاخ والا۔
  • سفید شاخ والا۔

سرخ شاخ والا چرچٹہ بکثرت ملتا ہے اور سفید شاخ والا نایاب ہے، یہ بوٹی دوسرے درجہ میں گرم و خشک ہے۔

چرچٹہ (پھٹکنڈہ)
چرچٹہ (پھٹکنڈہ)

مقدار خوراک

چار ماشہ سے چھ ماشہ اور نمک چرچٹہ آدھا ماشہ تک استعمال ہوتا ہے۔

فوائد

چرچٹہ آواز کو صاف کر تا ہے۔ معدہ کے امراض بلغمی اور ریاحی کو مفید ہے۔ بلغم کو دور کرتا ہے۔ خارش اور مختلف زہروں کے لیے ازحد مفید ہے۔ اس کے استعمال سے بلغمی بخار، درد سر اور درد شقیقہ دور ہو جاتے ہیں۔

چرچٹہ کے مجربات

بلغمی دمہ

چرچٹہ کے تمام پودے کو جلا کر اور اس کی راکھ میں دگنی چینی ملا کر چار ماشہ صبح و شام پانی کے ساتھ کھلائیں، بلغمی دمہ اور بلغمی کھانسی کو فوراً فائدہ ہوتا ہے۔

دیگر

چرچٹہ کے پنج انگ (پھول، پتے، جڑ اور ٹہنی) جلا کر ڈیڑھ ماشہ کی مقدار میں شہد چھ ماشہ ملا کر چاٹنے سے بلغمی امراض اور کھانسی کو آرام آجاتا ہے۔ بچوں کو ایک رتی کافی ہے۔

مثانہ کی پتھری

چرچٹہ تازہ آدھا تولہ پانی میں پیس کر چند روز پینے سے گردہ مثانہ کی پتھری ٹکڑے ہو کر نکل جاتی ہے، اور درد کا آرام آجاتا ہے۔

کمزوری

چرچٹہ کی جڑ سفوف کر کے ہم وزن مصری ملا کر چھ ماشہ کی مقدار میں صبح و شام دودھ کے ساتھ پکا کر کھانا کمزوری کو دور کرتا ہے۔ اور کثرت احتلام کو آرام دیتا ہے۔

بچھو کاٹے کا علاج

چرچٹہ بچھو کاٹے کا تریاق ہے۔ چنانچہ اس کے پتوں کو بچھو کاٹے ہوئے مقام پر ملنے سے فوراً اثر ہو کر تکلیف دور ہو جاتی ہے۔

نمک چرچٹہ

چرچٹہ کے پودے کو خشک کر کے جلائیں اور اس کی راکھ کو پانی میں ڈال کر خوب اچھی طرح ہلائیں۔ تین دن کے بعد اس کو  نتھار لیں، پھر کڑاہی میں پکا کر نمک بنالیں۔ یہ نمک ہاضم طعام ہے۔ پیشاب کو جاری کرتا ہے، اور دمہ میں مفید ہے۔ اس کو اونٹنی کے دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے استسقاء کو آرام آتا ہے۔ شہد کے ہمراہ چاٹنے سے بلغم اور دمہ دور ہوتا ہے۔ پیٹ درد کے لیے اجوائن کے ساتھ ملا کر دیں۔ اس نمک کو کھانا اور لگانا مرض خنازیر کو مفید ہے۔ خوراک آدھے سے ایک ماشہ تک۔

ملیریائی بخار

چرچٹہ کے پتے، کالی مرچ، لہسن ہم وزن چنے کے برابر گولیاں بنائیں۔ یہ گولیاں ملیریائی بخاروں کے لیے مفید ہیں۔ تین سے چار گولیاں باری باری سے پہلے کھلائیں۔

سوکھا مسان

چھلکا جڑ چرچٹہ، مرچ سیاہ ہم وزن لے کر دانہ جوار کے برابر گولیاں بنائیں۔ یہ گولیاں مرض سوکا یعنی دق الاطفال میں مفید ہیں، خوراک ایک گولی صبح و ایک شام ماں کے دودھ کے ساتھ دیں۔

پیاز (Onion) کے خواص، فوائد اور استعمال

بھنگرہ Trailing Eclipta کے خواص، فوائد اور استعمال

بابچی کے خواص فوائد اور استعمال

کشتہ جات میں چرچٹہ بوٹی کا استعمال

کشتہ چاندی سالم الحروف

خالص چاندی کا ایک روپیہ لے کر آگ میں گرم کریں، اور سونف کے رس میں سرد کریں۔ اسی طرح آگ میں سرخ کر کے بجھائیں، پھر نمک چرچٹہ تولے لے کر اس میں سے نصف کوزہ گلی میں بچھا دیں اور اس پر روپیہ رکھ کر باقی نمک چرچٹہ رکھ دیں، اور کوزہ کا منہ بند کر کے گل حکمت کریں۔ بعد ازاں دس سیر اپلوں کی آگ دیں، پھر نکال کر بدستور چھ تولہ نمک چرچٹہ میں آگ دیں۔ پانچ بار کے عمل سے سالم الحروف کشتہ تیار ہو جائے گا۔

اس کو سونف کے تازہ پانی کے ہمراہ چار پہر کھرل کریں، اور قرص بنائیں، پھر کوزہ میں بند کر کے گل حکمت کریں۔ جب خشک ہو جائے تو دو سیر اپلوں کی آگ دیں اور سرد ہونے پر کوزہ نکال کر کھول دیں، اعلیٰ قسم کا کشتہ برنگ گلابی تیار ہوگا۔ اسے شیشی میں بند کر کے اکیس دن زمین میں دفن کر دیں۔ اس کے بعد زمین سے نکال کر کھرل میں ڈالیں اور کیلا کے سرخ پھول کے پانی سے دوپہر کھرل میں ڈالیں اور ٹکیہ بنالیں، پھر ایک کوزہ گلی میں رکھ کر دو سیر کوئلوں کی آگ دیں۔ سرد ہونے پر نکال کر پیس لیں۔ اس کا رنگ شنگرف کے رنگ کی طرح لال ہو گا۔ آدھا چاول مکھن میں رکھ کر کھائیں۔ قوت از سر نو پیدا ہو گی، جریان، رقت کا کامیاب علاج ہے۔

اگر کشتہ مذکور آدھی رتی، طباشیر اصلی ڈیڑھ ماشہ، مربہ سیب ایک تولہ، دانہ الائچی خورد ڈیڑھ ماشہ۔ سب کا ملا کر صبح کےوقت کھائیں، تو زبردست تقویت دل حاصل ہوتی ہے دوران استعمال بادی و ترش چیزوں سے پرہیز کریں۔

کشتہ عقیق

چرچٹہ ایک پاؤ کے نغدہ میں عقیق شدھ ایک تولہ رکھ کر گل حکمت کریں۔ اور دس سیر اپلوں کی آگ دیں۔ جب سرد ہو جائے تو کشتہ ہو جائے گا۔ پیس لیں، خوراک ایک سے دو رتی ہمراہ مکھن دیں، کمزوری دل و خفقان کے لیے مفید ہے۔ بواسیر خونی کو فائدہ دیتا ہے، دمہ اور کھانسی میں بھی مفید ہے۔ دمہ اور کھانسی کے لیے شربت اعجاز سے دیں۔

کشتہ شنگرف

شنگرف شدھ دو تولہ کھرل کر کے ایک پاؤ آک کے دودھ کے ساتھ کھرل کریں۔ جب تمام دودھ جذب ہو جائے تو ٹکیاں بنا کر سایہ میں خشک کر لیں، بعد ازاں کو زہ گلی میں راکھ چرچٹہ آدھ پاؤ بچھا کر اس پر یہ ٹکیاں رکھ دیں، پھر اس کے اوپر آدھ پاؤ راکھ رکھ کر ہاتھوں سے دبا دیں اور کوزہ پر سرپوش رکھ کر تین مرتبہ گل حکمت کریں۔ جب خشک ہو جائے تو دس سیر اوپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر نکال دیں۔ اعلیٰ کشتہ تیار ہوگا۔ یہ کشتہ مقوی ہے صرف سردیوں میں استعمال کرنا چاہیے۔ خوراک آدھا چاول، بلغمی امراض کے لیے بھی مفید ہے۔

پھٹکنڈہ (چرچٹہ) کے کرشمے

یہ بوٹی رحمت خداوندی کا عمدہ نمونہ ہے اکیلی انسانی امراض کے لیے ازحد مفید ہے۔ بلکہ اکثر حالتوں میں فوری مفید ثابت ہوتی ہے، چند ذاتی تجربات خدمت خلق کے لیے بطور نمونہ درج ذیل ہیں:

عسر ولادت

اگر حاملہ درد سے تڑپ رہی ہو اور بچہ پیدا ہونے میں دشواری ہو۔ ہسپتال پہنچانے یا آپریشن کرانے کی بجائے چرچٹہ کی جڑ ایک تولہ کو پانی میں ابال کر چھان لیں۔ اور اس میں قند سیاہ ملا کر پلا دیں، تھوڑی دیر میں بچہ پیدا ہو جائے گا۔

پیشاب کی بندش

پیشاب بند ہو جائے تو اس کی پنجانگ یعنی پتے، پھول، شاخ، جڑ وغیرہ جو ملیں، دو تولہ بھر لے کر نصف سیر پانی میں ابال لیں۔ چوتھائی رہنے پر چھان کر یہ جوشاندہ پلانے سے پیشاب جاری ہو جاتا ہے۔ سنگ گردہ و سنگ مثانہ میں مفید ہے۔

دمہ

اس کے سوکھے پتوں کو چلم میں تمباکو کی بجائے رکھ کر پینے سے دمہ کو فوراً آرام آجاتا ہے۔ ولایتی سگریٹ دمہ خرید کر پینے والے اس کا تجربہ کر کے دیکھیں۔

بدن کی سوجن

اس کے پتوں کو باریک پیس کر دو تین رتی صبح اور شام پانی کے ساتھ چند یوم کھانے سے بدن کی سوجن دور ہوتی ہے۔ بواسیر کے مسوں کی جلن دور ہوتی ہے۔

پیشاب کی نالی زخم

سوکھے پتوں کا سفوف ایک ماشہ، درخت کیلا کے رس پاؤ بھر کے ساتھ صبح شام چند یوم استعمال کرنے سے مرض جڑ سے جاتا رہے گا۔ پرانے مرض میں بہت مفید رہتا ہے۔

بچھو کاٹنا

بچھو، زنبور وغیرہ کاٹے تو اس کے سبز پتوں کا رس ڈنک والے مقام پر ملنے سے فوراً درد دور ہو جاتا ہے، اور سوجن کم چڑھتی ہے۔

کان درد

اس کی جڑ کو جلا کر اس کی راکھ کو دس دن تلوں کے تیل میں نرم آگ پر نصف گھنٹہ گرم کر کے شیشی میں محفوظ رکھیں۔ دو تین بوند یہ تیل بہت خفیف گرم کر کے کان درد ہو تو ڈالیں۔ فوراً کام کرتا ہے اگر کان کے اندر زخم ہو، تو چند یوم میں صاف ہو کر بھر جاتا ہے۔ استسقائے زقی اور بدن کے کسی حصہ کی نرم سوجن کو دور کرنے کے لیے تمام اجزاء کا جوشاندہ بہت مفید رہتا ہے۔

درد دانت

سبز پتوں کا رس دانتوں پر ملنے سے دانت درد دور ہو جاتا ہے۔ بلکہ ہلتے دانت بھی مستحکم ہو جاتے ہیں۔

ملیریا

چرچٹہ کے سبز پتے، کالی مرچ اور لہسن ہم وزن گھوٹ کر چار چار رتی کی گولیاں بنالیں اور نیم گرم پانی سے چار گولی صبح و شام دیں۔ باری سے آنے والے اور ملیریا یعنی سردی لگ کر چڑھنے والے بخار دور ہو جاتے ہیں، بہت مفید چیز ہے۔

درد چشم

اس کے سبز پتوں کا رس نکال کر سلائی یا ڈراپر سے آنکھ میں ڈالیں۔ تو دھند کو فوراً آرام ہوتا ہے۔ درد اور سرخی کو بھی مفید ہے۔

بال کالا خضاب

اس کی جڑ کو درخت کیلا کے پانی میں باریک لیپ بنا کر سفید بالوں پر لگائیں۔ تو ان کو سیاہ کرتا ہے یعنی عمدہ اور سستا خضاب ہے۔

کالی کھانسی

ہر قسم کی کالی کھانسی، خصوصاً بچوں کی کالی کھانسی میں اس کی جڑ کی راکھ یا چرچٹہ نمک دورتی بھر قدرے شہد میں ملا کر دن میں دو تین بار چٹانا بہت مفید ہے۔

بد ہضمی

دہلی کے شاہی حکیم جناب شریف خان لکھتے ہیں کہ چرچٹہ کا نمک بہت ہاضم ہے، مسہل ہے۔ بارد اور بلغم کو دور کرتا ہے۔ داد، بہق اور بواسیر میں مفید ہے۔ زیادہ تر کھجلی کو دور کرتا ہے۔ پیٹ کی ریاح کو خارج کرتا ہے اور مصفیٰ خون ہے۔ پھوڑے پھنسی نکلنے کو روکتا ہے۔ (ڈاکٹر ٹی این سرما میرٹھ)

چرچٹہ کے متعلق میرے تجربات

کشتہ سم الفار

سم الفار ایک تولہ، چرچٹہ کی راکھ چھلنی میں چھانی ہوئی ایک پاؤ، دودھ برگ بتھل، شیر مدار کپڑے میں چھانا ہوا سوا تولہ، مٹی کا برتن بمعہ سر پوش ایک عدد، چکنی مٹی حسب ضرورت۔

ترکیب تیاری: ظروف گلی میں نصف راکھ چرچٹہ ڈال کر ہاتھ سے دبا کر جما دیں۔ اس کے اوپر سم الفار سفید ایک تولہ رکھ کر باقی نصف راکھ اوپر ڈال کر ہاتھ سے دبا دیں۔ اب ظروف گلی کا سر پوش دے کر چکنی مٹی سے لب بند کر دیں اور ایک کپڑا چکنی مٹی سے آلودہ کر کے گردا گرد لپیٹ کر چکنی مٹی مزید لیپ کر کے خشک ہونے دیں۔ خشک ہونے پر محفوظ الہوا جگہ میں آدھا گز گڑھا میں دس سیر اوپلے صحرائی ڈال کر گل حکمت شدہ برتن کو اس پر رکھ دیں اور دس سیر اپلے صحرائی اوپر ڈال کر آگ لگا دیں۔

سرد ہونے پر برتن نکال کر اس میں سے سم الفار کی ڈلی کو نکال لیں۔ کبھی کبھی ڈلی ٹوٹ کر ٹکڑے ہو جایا کرتی ہے مگر راکھ میں سے تلاش کر کے نکال لیں اور سوا تولہ شیر مدار ملا کر کھرل میں خوب کھرل کریں۔ مگر سم الفار پہلے باریک  کر کے شیر مدار تھوڑا تھوڑا ملاتے جائیں اور کھرل کرتے جائیں۔ حتیٰ کہ شیر مدار جذب ہو کر اس قدر خشک ہو جائے کہ ٹکیہ آسانی سے بن جائے۔ اب اس ٹکیہ سم الفار کو بھتل کو باریک کوٹ کر اوپر نیچے رکھ کر غلولہ بنا کر گل حکمت کر کے خشک کر لیں، جب خشک ہو جائے تو اڑھائی سیر صحرائی اوپلے نیچے پچھائیں اور اور غلولہ رکھ کر اڑھائی سیر اپلے اوپر ڈال کر آگ لگا دیں۔ سرد ہونے پر نکال کر پیس لیں اور شیشی میں محفوظ رکھیں۔ کشتہ نہایت سفید اور ملائم برآمد ہو گا۔

فوائد: مقوی ہے جوڑوں کے دردوں میں مفید ہے۔ بلغمی مزاجوں کو بہت فائدہ مند ہے۔

استعمال و مقدار خوراک: 1/4 چاول سے 1/2 چاول تک بالائی، مکھن، حلوا، نیم ابلے ہوئے انڈے سے بھی کھایا جاتا ہے۔ چار خوراک سے زائد نا قابل چار خوراک سے زائد نا قابل برداشت ہے۔ دودھ، گھی خوب استعمال کیا جاتا ہے، بہت ہی لاثانی چیز ہے۔

کشتہ سم الفار سفید

کسی لوہے کی کڑاہی میں آدھ پاؤ راکھ چرچٹہ بچھا کر ڈلی سم الفار شدھ رکھ کر باقی آدھ پاؤ راکھ چرچٹہ ڈال کر ہاتھ سے دبا دیں۔ چاروں طرف ایک جیسی برابر راکھ ہو۔ کڑاہی چولہے پر رکھ کر دو چوبی آگ جلاتے رہیں۔ آہستہ آہستہ بتدریج آگ تیز کرتے جائیں۔ ایک گھنٹہ تک آگ جلائیں یا راکھ پر چنے کا دانہ رکھ کر معلوم کریں۔ اگر دانہ بریاں ہو کر جلنے لگے تو آگ بند کر دیں، اور کڑاہی چولہے پر رہنے دیں۔ سرد ہونے پر ڈلی سم الفار نکال لیں، کشتہ سفید ہو گا، مگر یہ لطیف نہیں ہو گا۔ نمک چرچٹہ میں سم الفار سفید کشتہ ہو جاتا ہے۔ نمبر 1 والا عمدہ تیار ہے۔ معمول مطب ہے۔ ریاحی مرضوں میں بہت اچھا کام کرتا ہے۔ اس کا طریق استعمال وہی ہے جو مذکو رہ درج ہو چکا ہے۔

برائے دمہ

ایک رتی راکھ چرچٹہ مکھن میں رکھ کر کھلانے سے دمہ کا دورہ رک جاتا ہے اور بلغمی کھانسی کے لیے بھی مفید ہے۔ (حکیم محمد عباس قریشی)

عسر ولادت اور سانپ کے زہر کے لیے چرچٹہ کا استعمال

بعض پرانی طبی کتب میں لکھا ہے کہ چرچٹہ کی لکڑی حاملہ کی کمر میں باندھنے سے بچہ بآسانی پیدا ہو جاتا ہے۔ سوکھا مسان میں چرچٹہ کی جڑ کے ٹکڑے کر کے مالا بنا کر بچے کے گلے میں لٹکانا سوکھا مسان کو دور کرتا ہے۔ سانپ کے زہر کو دور کرنے کے لیے چرچٹہ کی شاخ مضبوط ہاتھوں سے پکڑ کر کان میں ڈالیں۔ پانچ یا دس منٹ میں یہ شاخ تمام زہر کو چوس لے گی، پھر اسے نکال دیں اگر کسی وجہ سے جڑ چھوٹ گئی تو کان کے اندر گھس کر کان کا پردہ پھاڑ دے گی۔

اسی طرح باری کے بخار کے لیے جڑ چرچٹہ کو بائیں بازو پر تعویذ باندھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور سر درد آدھے سردرد کے لیے چرچٹہ کو سر پر پھیرنے سے درد کو آرام ملتا ہے۔ اسی طرح کمر پر پھیرنے سے درد کمر دور ہو جاتا ہے۔

بیج چرچٹہ چند دانے دھاگہ میں پرو کر عورت کی بائیں ران پر باندھنیں اور بچہ پیدا ہونے پر فوراً کھول دیں یا جڑ چرچٹہ کو پانی میں پیس کر عورت کی ناف پر ٹپکائیں اور پیٹھ پر لیپ کریں۔ بچہ فوراً پیدا ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

لیکن آج سائنس کی ترقی کے اس زمانہ میں ہم ان چیزوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس لیے بعض اچھے اچھے لکھاریوں کے مضامین جو اس قسم کے نسخہ جات سے ترتیب دیے گئے ہیں۔ شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے وہ معالجین جو علم جیوتش و نجوم پر شواش رکھتے ہیں، چاہیں تو ان کی آزمائش کر سکتے ہیں۔

(ڈاکٹر و حکیم ہری چند ملتانی)

× حکیم صاحب سے مشورہ کریں !